Feeds:
Posts
Comments

Archive for June, 2013

armysoldier-6701

According to ISPR‚ forces took full control of heights on the central Derastani Ridge that overlooks the entire Maidan and Kuki Khel Valley.

Security forces have killed 35 and injured 15 terrorists during operations in Khyber Agency’s Tirah Valley and Kurram Agency.

According to ISPR‚ one soldier embraced martyrdom and five others sustained injuries during encounters.

After the clearance of Muhammadi Top in Kurram and Haider Kandao in Tirah Valley‚ security forces made significant gains on nights of the sixth‚ seventh‚ and eighth of this months‚ and cleared main areas of Maidan.

The forces took full control of heights on the central Derastani Ridge that overlooks the entire Maidan and Kuki Khel Valley.

The forces also flushed the terrorists out of heights of Darwazgai Kandao.

Source Link : Radio Pakistan

Read Full Post »

931211_477996842277755_2090479930_n

امریکا نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے گذشتہ سال کی گئی کارروائی کے دوران برآمد شدہ دستاویزات میں سے سترہ کو جمعرات کو جاری کیا ہے۔ان میں القاعدہ کے مقتول لیڈر نے مسلمانوں کی جہاد سے چشم پوشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں حملوں کے مخالف تھے۔

وائٹ ہاؤس نے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکادمی میں قائم انسداد دہشت گردی مرکز کو اسامہ بن لادن کے خفیہ خطوط اور دوسری دستاویزات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔عربی زبان میں ان کاغذات میں ایک سو پچھہتر صفحات کو محیط خطوط یا ان کے مسودے شامل ہیں جو انھوں نے ستمبر دوہزار چھے سے اپریل دوہزار گیارہ تک لکھوائے تھے یا خود لکھے تھے۔

ان دستاویزات سے القاعدہ کے نیٹ ورک کے درمیان اندرونی خط وکتابت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔یہ خطوط خود اسامہ بن لادن یا یمن ،پاکستان اور صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں نے لکھے تھے۔ان کے علاوہ اسامہ کی اپنے ہاتھ سے لکھی ایک ڈائری بھی امریکی کمانڈوز کے ہاتھ لگی تھی جو وہ بھاگتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اب اس میں سے القاعدہ کے لیڈر کی نجی وتنظیمی زندگی اور دوسری تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کے حوالے سے انکشافات کیے جارہے ہیں۔

ان تحریروں میں اسامہ بن لادن نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مسلمان جہاد کے نظریے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے اپنے پیروکاروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسلامی دنیا میں حملوں سے گریز کریں اور اس کے بجائے صرف امریکا پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

بن لادن کی خط وکتابت کے ساتھ امریکی تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس کے مطابق وہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے اپنے نصب العین کے لیے عوامی حمایت کے حصو ل میں ناکامی ،ناکام میڈیا مہموں اور حملوں کی ناقص منصوبہ بندی پر اپ سیٹ تھےکیونکہ ان کے حملوں میں اسامہ کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ بے گناہ مسلمان مارے گئے تھے۔

اسامہ بن لادن کے مشیر آدم جدھن نے ان پر زوردیا تھا کہ وہ عراق میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی کارروائیوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔اس پر انھوں نے دوسری تنظیموں اور امریکیوں کے بہ قول دہشت گرد گروپوں پر زوردیا تھا کہ وہ عراقی القاعدہ کی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔

اس خط وکتابت میں القاعدہ کے اس وقت کے نائب کماندار ابو یحییٰ اللبی کے خطوط بھی شامل ہیں جن میں انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر بلا امتیاز حملوں سے گریز کرے۔

اسامہ بن لادن نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر ناصر الوحشی کو یمن میں اقتدار سنبھالنے پر خبردار کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اس کے بجائے امریکا پر حملوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

ان خطوط ودستاویزات کے مطابق القاعدہ کے لیڈر نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے الشباب جنگجوؤں کی جانب سے وفاداری کے اعلان پر کوئی زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی اور ان کے خیال میں الشباب کے جنگجو اپنے کنٹرول والے علاقوں میں کوئی اچھا نظم ونسق قائم نہیں کرسکے تھے اور انھوں نے اسلامی سزاؤں اور لوگوں کے ہاتھ کاٹنے میں سختی کا مظاہرہ کیا تھا۔

امریکیوں کےبہ قول ان خطوط سے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا بھی انکشاف ہوا ہے لیکن امریکا کو اس کی حقیقی مراد حاصل نہیں ہوسکی کیونکہ ملنے والے خطوط سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ ایرانی حکام اور القاعدہ کے درمیان ایران میں قید بعض جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی رہائی کے ضمن میں بات چیت ہوئی تھی لیکن القاعدہ اور ایران کے درمیان کوئی خوشگوار اور توانا تعلق قائم نہیں تھا۔

ان کاغذات سے براہ راست یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ پاکستانی حکومت میں القاعدہ کا کوئی خیرخواہ بھی موجود تھا۔اسامہ بن لادن نے اپنی بعض تحریروں میں ”قابل اعتماد پاکستانی بھائیوں” کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن انھوں نے پاکستان کے کسی سرکاری یا فوجی عہدے دار کی شناخت ظاہر نہیں کی جس سے یہ پتاچل سکے کہ کسی پاکستانی عہدے دار کو ایبٹ آباد میں ان کے ٹھکانے کا علم تھا۔

رپورٹ کے مطابق بن لادن نے سکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا تھا جن کہ وجہ سے ان کا خاندان کئی سال تک محفوظ رہا تھا۔انھوں نے ایبٹ آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت انتطامات کررکھے تھے اور بچوں کو کمپاؤنڈ سے باہر کسی بڑے آدمی کی نگرانی کے بغیر کھیل کود کے لیے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اسامہ بن لادن نے یکم مئی کوامریکی سیلز ٹیم کی کارروائی میں اپنی ہلاکت تک امریکا کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے لیے اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی تھی اور اس مقصد کے لیے وہ منصوبے تیار کرتے رہتے تھے لیکن وہ کسی امریکی لیڈر کو ہلاک کرنے یا امریکا پر کوئی بڑا حملہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی دنیا بھر میں کارروائیوں سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر باخبر نہیں تھے۔

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو ان کی ہلاکت کا ایک سال پورا ہونے پر منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔امریکا میں اس موقع پر باقاعدہ طور پر ایک ہفتے کا جشن منایا جارہا ہے جس کے دوران امریکی صدر براک اوباما اور دوسرے عہدے دار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس ”فتح عظیم” پر ڈونگرے برسا رہے ہیں اور اسامہ کی ہلاکت کے واقعہ سے متعلق نئے نئے گوشے منظرعام پر لارہے ہیں۔۔

امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا کہ ”امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔

واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

واشنگٹن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

Read Full Post »

Who is the real power wielder in Pakistan: the Prime Minister or the Army chief?—File Photo

Who is the real power wielder in Pakistan: the Prime Minister or the Army chief?—File Photo

ISLAMABAD: As Pakistan witnessed a historic democratic transition, many in the county have started to believe that the days of military supremacy are over. But not on the roads, at least not yet.

As Nawaz Sharif, along with his family, left for the Presidency to take oath as prime minister for a record third time on Wednesday, he struck reality on the streets of Islamabad.

The question is: who is the real power wielder in Pakistan? The prime minister or the Army chief? Theoretically, the army chief is answerable to a grade-22 civil bureaucrat. Practically, he is mightier than any elected or non-elected individual in the country.

One such demonstration of this reality was witnessed Wednesday soon after Mian Nawaz Sharif’s election as Prime Minister of Pakistan.

After securing more than two-thirds majority in the National Assembly, the premier reached Punjab House to freshen up.

The prime minister was supposed to reach the Presidency before 4:00 pm to take oath from President Asif Ali Zardari.

At the oath-taking ceremony, services chiefs, political leaders, diplomats and senior civil and military officials had been invited.

PML-N sources and eyewitnesses said first to come out of Punjab House was the SUV carrying first lady Kulsoom Nawaz and her daughter Mariam Safdar. Just behind them were the vehicles of Hamza Shahbaz and Hassan Nawaz.

The convoy of the prime minister was standing at close distance from the cars of his family members. As soon as they reached the outer barrier of Punjab House adjacent to Margallah Road, an alter commando blew the whistle with full force ordering the driver to stop the vehicle.

Consequently, the prime minister’s convoy had to stop as well. The pause remained for two to three minutes.

The commando was there to make sure nothing should obstruct the route of the Army chief’s convoy, only allowing vehicles from Punjab House to pass after the entire convoy of the army chief drove away.

Whether it was a mere coincidence could not be ascertained. None of the PML-N leaders was ready to comment on the incident. But the prime minister might have shared his thoughts with his closest aides.

Source: Dawn.com

Read Full Post »

Untitled-1 2Untitled-2 copy

Read Full Post »

Sardar Rasmesh Singh Arora, the first Sikh member of the Provincial Assembly since 1947.

Sardar Rasmesh Singh Arora, the first Sikh member of the Provincial Assembly since 1947.

LAHORE: Saturday marked a historic milestone for the Sikh community in the province. A Sikh representative, for the first time since 1947, took oath as a member of the provincial assembly in Punjab at its first session.

He was nominated on a seat reserved for minorities on a Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) ticket.

Sardar Ramesh Singh Arora walked into the assembly hall wearing a traditional white shalwar kamees and an orange turban. Several parliamentarians and assembly officials shook hands with him and welcomed him. Several of his family and friends were there to support him as well.

“As the first Sikh to have taken oath as a parliamentarian in the Punjab Assembly since 1947, I am absolutely delighted to be part of this august house. The position certainly comes with a lot of responsibility. I will not only be representing my own community but all the minorities in the province,” Arora told The Express Tribune after taking the oath.

371

Arora hails from Narowal and has been associated with the Pakistan Gurudwara Parbandhak Committee.

“PML-N’s priorities include eliminating load shedding and reviving the economy,” he said, minorities will benefit from these.

Arora said that he would work for the rehabilitation of historical and religious sites of the Sikhs. “Sites sacred to other religions will also be restored through the Evacuee Trust Property Board,” he said.

He said work on the reformation of the Gurudwara Parbhandhak Committee was already underway, adding that it would be made more effective and efficient. “I will do the best I can to serve minorities. That is my aim and my party’s policy. That is why I’m here and that is what my oath was about,” he said.

Parliamentarian drives in on a motorbike

While most parliamentarians were seen reaching the assembly chambers on expensive SUVs and luxury cars, one of them chose a different mode of transport. Maulana Ghiyasud Din, a PML-N MPA from Shakargarh, drove a motorbike, with a green number plate reading MPA, to the assembly building.

“There is need to promote simplicity in our culture. That is why I drove a motorbike to attend the first assembly session. We need to cut down on expenses and solve problems like load shedding as soon as possible,” he said.

The effort towards that end needs to start from day one, he said.

Published in The Express Tribune, June 2nd, 2013.

Read Full Post »

%d bloggers like this: