Feeds:
Posts
Comments

Archive for the ‘URDU COLUMN’ Category

Nawaz-Sharif-said-the-Charter-of-Democracy-CoD-should-be-implemented

Ye-Mian-Nawaz-Sharif-Kon-Hein-Urdu-Column

Read Full Post »

تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور سعودی عرب میں فاصلے بہت بڑھ گئے

 

Read Full Post »

Read Full Post »

کھیل تماشہ


کھیل تماشوں کی تاریخ شاید اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی تفریح اور صحت مند تفریح ہر دور میں انسان کی ضرورت رہی ہے بس اسکی شکلیں بدلتی رہی ہیں۔پہلے کٹھ پتلیاں اشاروں پہ ناچا کرتی تھیں اب انسان ناچتے ہیں اور ناچ ناچ کے گا گا کے عوام کو بھی اپنا ہم نشین اور ہم آواز بنانے کے در پہ ہوتے ہیں یقین نہیں آتا تو کھیل تماشوں کی دور حاضر کی شکل ملاحظہ فرمائیں،دور حاضر کا میڈیا کھیل تماشوں کی ترقی یافتہ شکل اور جیتی جاگتی مثال ہے ۔یہ تفریح اگر ڈراموں اور فلموں تک محدود رہتی تو اسے صحت مند تفریح قرار دیا جا سکتا تھا لیکن جب سے خبریں اور ٹاک شوز بھی کھیل تماشوں کی شکل اختیار کر گئے انسان کی سوچ اور فکر کی صحت کو شدید بیماریاں لاحق ہونا شروع ہوگئیں ۔ان کھیل تماشوں کے ذریعہ کبھی وینا ملک کو مفتی صاحب کے مقابلے میں بٹھا کے پارسا ثابت کرنے کی کوشش میں معاشرے میں مزید ہیجانی کیفیات پیدا کی جاتی ہیں ،تو کبھی یہ تماشے مایا خان کے دوڑتے بھاگتے زیر عتاب آے ڈراموں کو صاف ستھرا کر کے انہیں مظلوم ثابت کرتے ہیں ،انہی کھیل تماشوں کی ڈور میں کبھی نادیہ خان پہ پابندی لگ جاتی ہے اور کبھی نئے کھیل تماشوں سے انھیں سکرین پہ زبردست طریقے سے خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اک عام آدمی یونہی پاگل بنتا رہتا ہے کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟ ،اس پہ بھی اعتراض نہ کیا جاتا اگر یہ آنا کانی فقط شو بز کی چکا چوند کرتے قبیلے کی شخصیات تک محدود رہتی لیکن جب سے منفی کو مثبت اور مثبت کو منفی ثابت کرنے کا بیڑا میڈیا کے دانشوروں نے اٹھا لیا اور مشہور زمانہ متنازعہ شخصیات کے گناہ دھونے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تو ہر زی ہوش آدمی کے لبوں کے بند کھل گئے ۔
میڈیا تھری ڈی فلم کا وہ چشمہ ہے جس کو لگا کے اسکرین پہ چلنے والی فلم کے تمام زاویے یقینی نظر آنے لگتے ہیں ،اسکرین سے آنکھوں تک اعتماد کے رشتے استوار ہوتے ہیں اور لوگ اسی عمل اور رد عمل میں مشغول ہو جاتے ہیں جو انھیں یہ چشمہ دکھا رہا ہوتا ہے ،یقیناً اعتماد کی اس فضا کو قائم کرنے کے لیں ایک عمر کی ریاضت درکار ہوتی ہے اس عینک سے قطع نظر ایک اور نعمت ہے جو اللہ تعلیٰ نے بشر کو عطا فرمائی ہے اور وہ ہے عقل ،لیکن تھری ڈی چشموں کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ یہ اذہان کو یوں اپنی گرفت میں لیتے ہیں کہ لوگ عقل استعمال کرنا ہی بھول جاتے ہیں ،اب ملک ریاض کے کیس کی ہی مثال لے لیجئے ،مختلف کھیل تماشوں کے ذریعہ میڈیا کے کچھ لوگوں نے انکا مثبت عکس دکھانے کی بھرپور کوشش کی کسی نے ارسلان افتخار کے گوشواروں کے گرد حاشیے کھینچے کسی نے اولاد سے اس درجہ بےخبر رہنے پرچیف جسٹس کی خوب سرزش کی ،کسی نے ملک ریاض کے توسط سے جلنے والے غریب کے چولہوں کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی ،کسی نے انکے سیلف میڈ ہونے پر مدح سرائی کی اور ان تمام کوششوں میں خاصی حد تک کامیاب بھی رہے ،لوگوں نے چیف جسٹس سے متنفر ہونا شروع کر دیا ،انھیں ناکام باپ کا درجہ دیا ساتھ ہی کافی لوگ یہ بھی کہتے پاے گئے کہ چودھری افتخار نے ہیرو بننے کے لئے اپنے بیٹے کو عدالت میں طلب کیا وغیرہ وغیرہ ،ان سب کھیل تماشوں میں مگن ہو کر بہت کم لوگ تھے جنہوں نے ابتدا پر دھیان دیا اور ملک ریاض کے موقف پہ بات کی ،ملک ریاض نے برملا اظہار کیا کہ انہوں نے ارسلان کو رشوت دی،ہماری اب تک کی ناقص معلومات کے مطابق رشوت لینا ایک غیر قانونی عمل ہے ،لیکن ایک لمحے کے لئے اگر یہ بھی سوچ لیا جائے کے ہمارے ملک میں یہ کوئی قبل گرفت بات نہیں تو یہ غور کریں کہ یہ رشوت کیوں دی گئی ،اسکا بھی وہ بھرپور جواب دیتے ہیں کہ اپنے مقدمات میں ریلیف لینے کے لئے رشوت دی گئی اور یہ مقدمات کس قسم کے ہیں؟ ،یقیناً انکی حیثیت متنازعہ نہیں اور اگر ان میں ریلیف حاصل کرنے کے لیں رشوت دی گئی تو اس میں کوئی نیک مقصد یا نیک نیتی کا شائبہ بھی کیسے ہو سکتا ہے؟ ،کتنی عجیب بات ہے کہ کوئی چور اپنی چوری چھپانے کے لیں رشوت دے اور پھر کوتوال سے کہے کے اپنے بیٹے کو پکڑو اسنے مجھے معافی نہیں دلائی میری چوری نہیں چھپائی اور پیسے بھی کھا لئے ۔ میڈیا کے ان کھیل تماشوں کی کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں اتنی مضبوط اور اتنے اونچے ہاتھوں میں ہیں جہاں تک پہنچنا عام آدمی کے بس سے باہر ہے،لیکن چور اگر طاقت ،پیسہ اور اثر و رسوخ رکھتا ہو تو ہاتھ لمبے کر کے بڑی بڑی دانشور پتلیوں کو بھی نچا کر لوگوں کو مصروف اور مضبوط کر سکتا ہے اسکی مثال بھی سامنے آئی اور بہت سے اعتماد کے رشتے بری طرح ٹوٹ گئے ،کچھ نے فقط استاد ہونے کا دعویٰ کیا اور سیکھنے سکھانے کے عمل کو قابل تعریف قرار دیا ،کچھ نے بظاہربڑے سخت قسم کے انٹرویو کیے عوام دو گھنٹے تماشے سے لطف اندوز ہو کے تالیاں بجاتی رہی اور پھر کچھ ہی دیر بعد یو ٹیوب پہ کلپ دیکھ کے انہی ہاتھوں سے کلے پیٹنے لگی لیکن اس پہ بھی یہ کھیل تماشے نہ رکے اور وضاحت کی تھری ڈی پیش کرنے کے لیں لوگوں کو نئے چشموں کی فراہمی شروع کر دی گئی لیکن یہ فلم اکثریت نے چشمہ اتار کر اپنے زاویہ سے دیکھی جس سے وہ لطیفہ یاد آیا کے ایک پاگل سے کسی نے کہا اپنا سامان دریا میں پھینک دو اسنے پھینک دیا پھر کہا دریا میں کود جاو اسنے جواب دیا ”میں پاگل ہوں بیوقوف نہیں“
ان سب تماشوں میں ایک اور بات بھی بار ہا دکھائی دی ،اللہ اور اسکے دین کا استعمال حسب منشا خوب خوب کیا گیا ،مقدّس صحیفے کا سہارا لیا گیا ، حریفوں سے بھی قرآن اٹھانے کی استدعا کی گئی ، کسی نے جھوٹا ہونے کی صورت میں اپنے لئے عذاب کی دُعا بھی کی ،سچ اور جھوٹ سے تو اللہ ہی واقف ہے لیکن ہر الٹی سیدھی بات کی دلیل اور ،سیاسی غلاظتوں سے قرآن کی مقدس کتاب کو دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہوگا اور لوگوں کو بھی چاہیے کے ہر کس و ناقص کے ہاتھ میں قرآن دیکھ کے اس پہ یقین کرنا چھوڑ دیں پتا نہیں قرآن کا سہارا لینے والا اسکی حرمت ،قدر و منزلت سے کس حد تک واقف ہے اور کوئی بعید نہیں کہ یہ بھی کھیل تماشے کی ہی کوئی کڑی ہو .
یہ کھیل تماشے کبھی نہیں رکنے،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت اور دوسرے ملکی معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ان کھیل تماشوں کا اہتمام کیا گیا ہے اور واقعی ہمارے ملک کے آسمان پہ ملک ریاض المعروف ریاض ٹھیکیدار کا کالا بادل ایسے چھایا ہے کہ سب کچھ اس سیاہ دھند میں معدوم ہو کر رہ گیا ہے مزید کچھ اور دکھائی نہیں دے رہا ۔ بہرحال اصلیت جو بھی ہو اس تمام کھیل میں جن چہروں سے نقاب اٹھے ہیں اور میڈیا اور عوام کے درمیان قائم اعتماد کے پل میں جو دراڑ پڑی ہے وہ بہت افسوس ناک ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ اس انٹرویو کے مختلف ٹوٹے منظر عام پہ لانا بھی کوئی نیا تماشہ ہو یا شاید پرانے تماشے کی کوئی کڑی ہو، کیا کیا جائے بے یقینی اور بے اعتباری کی یہ کیفیت بہت شدید ہے اور اس دراڑ کو پر ہونے میں اب کافی عرصہ لگے گا ۔ اگرچہ اب بھی کچھ تجزیہ نگار ، سچے اور صاف ستھرے قلم کار اپنا کام بہادری سے سر انجام دیے رہے ہیں جو قوم کے لیں قابل فخر ہیں اور ان پہ عوام کا اعتماد بھی قائم ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عوام سچ کے علمبرداروں،قلم کاروں اور صحافیوں کے بت بنا کے انھیں پوجنے پہ اکتفا نہ کریں اور ٹی وی اینکروں اور دانشوروں کے تخلیق کیے ہوے ہر کھیل تماشے کو صرف انہی کی دی ہوئی تھری ڈی عینکوں سے نہ دیکھیں بلکے اپنی نظر ،عقل اور شعور کا بھی استعمال کریں اور اپنی سوچ اور فکرمیں اعتدال کا عنصر بھی پیدا کریں .
دیکھنا گنوانا مت دولت یقیں لوگوں
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگوں

Read Full Post »

انوارالحق
عمران خان اور پی ٹی آئی کو آئی آرآ ئی کے سروے پہ شاباش نہ دینا زیادتی ہو گی ۔ عجب ماجرہ ہے اگر یہ سروے ن لیگ اور پی پی پی کے حق میں ہوتا تو آسمان سر پر اٹھایا ہوتااور اگلے الیکشن کا نتیجہ اسی وقت نکال لیا جاتا ۔ یہی سروے 2008میں جب آیا تھا ۔ اس کے مطابق پی پی پی ملک کی واحد سیاسی جماعت جو چاروں صوبوں میں جڑیں رکھتی تھی اور اعداد و شمار کے لحاظ سے ملک میں حکومت بنائے گی ۔ (ن) لیگ پنجاب میں سر فہرست اور پی پی پی کا دوسرا نمبر تھا ۔ جبکہ کے پی کے میں ترتیب مقبولیت کے اعتبار سے اے این پی سب سے آگے ، پی ٹی آئی ، ن لیگ بعد میں تھی ،پی پی پی سندھ میں اکیلی ہی وارث تھی ۔ الیکشن کانتیجہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ ق لیگ اپنے تمام ترقیاتی کاموں کے اور آمر کی آشربا ہونے کے ساتھ پھر بھی الیکشن ہا ر گئی ۔ کیونکہ انکے گناہ ترقیاتی کاموں سے کہیں زیادہ تھے پڑھا لکھا پنجاب ، سڑکوں کا جال ، پبلک ٹرانسپورٹ ، اقساط میں گاڑیاں اور ڈھیروں سکیمیں تھیں۔ لیکن عوام لال مسجد ، لوڈ شیڈنگ ، ججوں کی جبری رخصتی بھول نہ سکی ۔ اس بار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، لیپ ٹاپ ۔ سستی روٹی ، آشیانہ سکیم اور دانش سکول جسکی بنیاد رکھتے ہوئے دانش سے کام نہیں لیا گیا ۔ ان سب کا کیا ہو گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔
جو لوگ پی پی پی کے ووٹ بینک کا دم بھرتے نظر آتے ہیں اُنہیں 97 ءکا الیکشن شاید یاد نہیں جس میں پی پی پی 17سیٹوں کے ساتھ صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ، لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کپتان نے میدان مار لیا ہے ۔ داد اس بات پر بنتی ہے کہ آج سے چار سال پہلے پی ٹی آئی کو سب تانگہ پارٹی کہتے تھے ۔ آج پاکستان کی واحد وفاقی جماعت بن گئی ہے اور اس کا عمل کپتان کے پشاور کے دھرنے میں عوام کے ساتھ کھلے آسمان تلے زمین پہ سونے سے ہو گیا تھا تب میاں صاحب اور زرداری ،گیلانی اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ۔
لیکن یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستانی ایک جذباتی قوم ہے ورنہ بھٹو کے نام پہ پی پی پی پانچویں بار اقتدار کی سیڑھی نہ چڑھتی ۔ اور چوتھی بار میاں صاحب کے سر پر تاج نہ سجایا جاتا ۔ یہی قوم 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ، بھوک ننگ ، مہنگائی اور نا انصافی سے تنگ آکر خود کو آگ لگا کر انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ۔ جب تک خبر نہیں بنے گی حکمرانوں کے کانوں پر دستک نہیں ہو گی ۔ لیکن جب کسی حلقے میں ضمنی الیکشن ہو تو یہ ترقیاتی کام بھوک ، ننگ ،مہنگائی اور نا انصافی کو چند دنوں کے لیے بھول کر چاچے ، مامے ، تائے کے فرمانبردار بن کر برادری کے نام پر ووٹ ڈال دیتے ہیں ۔ اگر جذباتی قوم نہ ہوتی تو خود کو ایک دن کے لیے گھروں میں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرواتی ، لیکن یہاں تو کرائم منسٹر کے سپوت اور 18کروڑ کا گھپلہ کرنے والے کو 93 ہزار ووٹ پڑ جاتے ہیں۔
ایک بار پھر میاں صاحب میدان میں اترے ہیں اپنے ہوم گراﺅنڈ ٹیکسلا ، رتو ڈیرو ممتاز بھٹو کے گراﺅنڈ میں بڑے بڑے جلسے کر دیے ۔ میاں صاحب موقعے کا فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں اور وہ اس کھیل میں منجھے ہوئے کھلاڑی ، میڈیا پہ لگانے کے لیے پیسہ اور پٹواری بھی دستیاب ہیں اور مبصرین کے مطابق میاں صاحب اس بار ساری کشتیاں جلا کر آئے ہیں لیکن میرے خیال میں وہ دو چار کشتیاں بچا کر رکھتے ہیں تا کہ اگر واپس جانا پڑے تو دشواری نہ ہو ۔ ن لیگ الیکشن لڑنے کا گُر اور بازی مارنے کا فن بھی جانتی ہے اس لئے کشتیاں پی ٹی آئی اور خاص طور پر آئی ایس ایف کو جلانا ہونگی ۔ کپتان کو ن لیگ ، پی پی پی ، میڈیا کے کچھ اینکرز اور لکھاریوں کا بھی سامنا ہے ۔جن کی زبان پر اس سروے کے بعد ایک ہی گردان ہے کہ سروے کبھی الیکشن نہیں جتایا کرتے ،پی پی پی کو تو 2008ءمیں جتادیا تھا ۔30اکتوبر کے جلسے سے پہلے طعنہ ہوتا تھا کہ کپتان جلسیا ں کرتا ہے ۔ لیکن جب عوام آگئی تو کہا جاتا ہے کہ مشہور اور بڑے بڑے نام نہیں جب بڑے بڑے نام آنا شروع ہوئے تو کہا گیا کہ ان میں کچھ ایسے لوگ گھس آئے ہیں جن کا ماضی داغدار ہے یہ الزام کافی حد تک درست بھی ہے ۔آج کل ایک اور شوشہ شروع ہے کہ کلیئر پالیسی نہیں ہے ۔انرجی پالیسی جس پہ اور کام کرنے کی ضرورت ہے پنجاب ،سندھ میں دباﺅ گیس سے استعفادہ اور کوئلے پہ پاک ایران گیس سے زیادہ انحصار کرنے کی ضرورت ہے گاﺅں کی سطح پر اختیار دینے میں چیک اینڈ بیلنس ،زمینوں کی تقسیم کا فیصلہ بھی کرنا ہوگا ۔پی ٹی آئی کو یکساں تعلیمی نظام کے اوپر پالیسی جلدہی سامنے لانی چاہیے ۔ویسے پی ٹی آئی کو نون لیگ کے نکل مارنے کا بھی ڈرلگارہتا ہے اور خیر سے دو اینکر صاحبان ایسے ہیں جو اپنے فیس بک اور ٹویٹر کے اکاﺅنٹ پہ یا تو وینا ملک کو ڈسکس کرتے ہیں یا کپتان کو ، بحث اور تنقید ضرور کرنی چاہیے لیکن بے جاتنقید اور توہین تو نہیں ۔ یہ صاحبان تو باقاعدہ پی ٹی آئی اور آئی ایس ایف کے نوجوانوں کو گالیاں دینے پر ورغلاتے ہیں لیکن سیاسی کارکنوں کی حیثیت سے نوجوانوں کو برداشت کرنا چاہیے ۔ تنقید سے سیکھا بھی جاسکتا ہے کپتان کو احساس ہے کہ منزل آسان نہیں جب آپ ہر کسی کے نشانے پر ہوں سروے پر خوش ہونے کی بجائے کام ،کام اور کام کی ضرورت ہے ۔کپتان اگر ٹھیک وقت ٹھیک فیصلے کرتا گیا پارٹی اپنی اندرونی لڑائی کو بھلاکر عوام پر وقت صرف کرے تو سروے کے نتیجہ کو سچ ثابت کرنا آسان ہوجائے گا ۔کپتان کو تحریک کے تسلسل کو قائم رکھنا ہوگا یہ تسلسل قائم رہا تو کپتان کے پاس میچ وننگ کھلاڑی موجود ہیں ۔جو میچ کا پانسا پلٹ سکتے ہیں خیر میچ کا آغاز ہوگیاہے اختتام الیکشن کے نتیجے پر ہوگا۔

Read Full Post »

%d bloggers like this: