Feeds:
Posts
Comments

Posts Tagged ‘Column’

Nawaz-Sharif-said-the-Charter-of-Democracy-CoD-should-be-implemented

Ye-Mian-Nawaz-Sharif-Kon-Hein-Urdu-Column

Advertisements

Read Full Post »

انوارالحق
عمران خان اور پی ٹی آئی کو آئی آرآ ئی کے سروے پہ شاباش نہ دینا زیادتی ہو گی ۔ عجب ماجرہ ہے اگر یہ سروے ن لیگ اور پی پی پی کے حق میں ہوتا تو آسمان سر پر اٹھایا ہوتااور اگلے الیکشن کا نتیجہ اسی وقت نکال لیا جاتا ۔ یہی سروے 2008میں جب آیا تھا ۔ اس کے مطابق پی پی پی ملک کی واحد سیاسی جماعت جو چاروں صوبوں میں جڑیں رکھتی تھی اور اعداد و شمار کے لحاظ سے ملک میں حکومت بنائے گی ۔ (ن) لیگ پنجاب میں سر فہرست اور پی پی پی کا دوسرا نمبر تھا ۔ جبکہ کے پی کے میں ترتیب مقبولیت کے اعتبار سے اے این پی سب سے آگے ، پی ٹی آئی ، ن لیگ بعد میں تھی ،پی پی پی سندھ میں اکیلی ہی وارث تھی ۔ الیکشن کانتیجہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ ق لیگ اپنے تمام ترقیاتی کاموں کے اور آمر کی آشربا ہونے کے ساتھ پھر بھی الیکشن ہا ر گئی ۔ کیونکہ انکے گناہ ترقیاتی کاموں سے کہیں زیادہ تھے پڑھا لکھا پنجاب ، سڑکوں کا جال ، پبلک ٹرانسپورٹ ، اقساط میں گاڑیاں اور ڈھیروں سکیمیں تھیں۔ لیکن عوام لال مسجد ، لوڈ شیڈنگ ، ججوں کی جبری رخصتی بھول نہ سکی ۔ اس بار بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، لیپ ٹاپ ۔ سستی روٹی ، آشیانہ سکیم اور دانش سکول جسکی بنیاد رکھتے ہوئے دانش سے کام نہیں لیا گیا ۔ ان سب کا کیا ہو گا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔
جو لوگ پی پی پی کے ووٹ بینک کا دم بھرتے نظر آتے ہیں اُنہیں 97 ءکا الیکشن شاید یاد نہیں جس میں پی پی پی 17سیٹوں کے ساتھ صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ، لیکن اسکا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کپتان نے میدان مار لیا ہے ۔ داد اس بات پر بنتی ہے کہ آج سے چار سال پہلے پی ٹی آئی کو سب تانگہ پارٹی کہتے تھے ۔ آج پاکستان کی واحد وفاقی جماعت بن گئی ہے اور اس کا عمل کپتان کے پشاور کے دھرنے میں عوام کے ساتھ کھلے آسمان تلے زمین پہ سونے سے ہو گیا تھا تب میاں صاحب اور زرداری ،گیلانی اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ۔
لیکن یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستانی ایک جذباتی قوم ہے ورنہ بھٹو کے نام پہ پی پی پی پانچویں بار اقتدار کی سیڑھی نہ چڑھتی ۔ اور چوتھی بار میاں صاحب کے سر پر تاج نہ سجایا جاتا ۔ یہی قوم 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ، بھوک ننگ ، مہنگائی اور نا انصافی سے تنگ آکر خود کو آگ لگا کر انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ۔ جب تک خبر نہیں بنے گی حکمرانوں کے کانوں پر دستک نہیں ہو گی ۔ لیکن جب کسی حلقے میں ضمنی الیکشن ہو تو یہ ترقیاتی کام بھوک ، ننگ ،مہنگائی اور نا انصافی کو چند دنوں کے لیے بھول کر چاچے ، مامے ، تائے کے فرمانبردار بن کر برادری کے نام پر ووٹ ڈال دیتے ہیں ۔ اگر جذباتی قوم نہ ہوتی تو خود کو ایک دن کے لیے گھروں میں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرواتی ، لیکن یہاں تو کرائم منسٹر کے سپوت اور 18کروڑ کا گھپلہ کرنے والے کو 93 ہزار ووٹ پڑ جاتے ہیں۔
ایک بار پھر میاں صاحب میدان میں اترے ہیں اپنے ہوم گراﺅنڈ ٹیکسلا ، رتو ڈیرو ممتاز بھٹو کے گراﺅنڈ میں بڑے بڑے جلسے کر دیے ۔ میاں صاحب موقعے کا فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں اور وہ اس کھیل میں منجھے ہوئے کھلاڑی ، میڈیا پہ لگانے کے لیے پیسہ اور پٹواری بھی دستیاب ہیں اور مبصرین کے مطابق میاں صاحب اس بار ساری کشتیاں جلا کر آئے ہیں لیکن میرے خیال میں وہ دو چار کشتیاں بچا کر رکھتے ہیں تا کہ اگر واپس جانا پڑے تو دشواری نہ ہو ۔ ن لیگ الیکشن لڑنے کا گُر اور بازی مارنے کا فن بھی جانتی ہے اس لئے کشتیاں پی ٹی آئی اور خاص طور پر آئی ایس ایف کو جلانا ہونگی ۔ کپتان کو ن لیگ ، پی پی پی ، میڈیا کے کچھ اینکرز اور لکھاریوں کا بھی سامنا ہے ۔جن کی زبان پر اس سروے کے بعد ایک ہی گردان ہے کہ سروے کبھی الیکشن نہیں جتایا کرتے ،پی پی پی کو تو 2008ءمیں جتادیا تھا ۔30اکتوبر کے جلسے سے پہلے طعنہ ہوتا تھا کہ کپتان جلسیا ں کرتا ہے ۔ لیکن جب عوام آگئی تو کہا جاتا ہے کہ مشہور اور بڑے بڑے نام نہیں جب بڑے بڑے نام آنا شروع ہوئے تو کہا گیا کہ ان میں کچھ ایسے لوگ گھس آئے ہیں جن کا ماضی داغدار ہے یہ الزام کافی حد تک درست بھی ہے ۔آج کل ایک اور شوشہ شروع ہے کہ کلیئر پالیسی نہیں ہے ۔انرجی پالیسی جس پہ اور کام کرنے کی ضرورت ہے پنجاب ،سندھ میں دباﺅ گیس سے استعفادہ اور کوئلے پہ پاک ایران گیس سے زیادہ انحصار کرنے کی ضرورت ہے گاﺅں کی سطح پر اختیار دینے میں چیک اینڈ بیلنس ،زمینوں کی تقسیم کا فیصلہ بھی کرنا ہوگا ۔پی ٹی آئی کو یکساں تعلیمی نظام کے اوپر پالیسی جلدہی سامنے لانی چاہیے ۔ویسے پی ٹی آئی کو نون لیگ کے نکل مارنے کا بھی ڈرلگارہتا ہے اور خیر سے دو اینکر صاحبان ایسے ہیں جو اپنے فیس بک اور ٹویٹر کے اکاﺅنٹ پہ یا تو وینا ملک کو ڈسکس کرتے ہیں یا کپتان کو ، بحث اور تنقید ضرور کرنی چاہیے لیکن بے جاتنقید اور توہین تو نہیں ۔ یہ صاحبان تو باقاعدہ پی ٹی آئی اور آئی ایس ایف کے نوجوانوں کو گالیاں دینے پر ورغلاتے ہیں لیکن سیاسی کارکنوں کی حیثیت سے نوجوانوں کو برداشت کرنا چاہیے ۔ تنقید سے سیکھا بھی جاسکتا ہے کپتان کو احساس ہے کہ منزل آسان نہیں جب آپ ہر کسی کے نشانے پر ہوں سروے پر خوش ہونے کی بجائے کام ،کام اور کام کی ضرورت ہے ۔کپتان اگر ٹھیک وقت ٹھیک فیصلے کرتا گیا پارٹی اپنی اندرونی لڑائی کو بھلاکر عوام پر وقت صرف کرے تو سروے کے نتیجہ کو سچ ثابت کرنا آسان ہوجائے گا ۔کپتان کو تحریک کے تسلسل کو قائم رکھنا ہوگا یہ تسلسل قائم رہا تو کپتان کے پاس میچ وننگ کھلاڑی موجود ہیں ۔جو میچ کا پانسا پلٹ سکتے ہیں خیر میچ کا آغاز ہوگیاہے اختتام الیکشن کے نتیجے پر ہوگا۔

Read Full Post »

%d bloggers like this: