Feeds:
Posts
Comments

Posts Tagged ‘OSAMA BIN LADEN’

931211_477996842277755_2090479930_n

امریکا نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے گذشتہ سال کی گئی کارروائی کے دوران برآمد شدہ دستاویزات میں سے سترہ کو جمعرات کو جاری کیا ہے۔ان میں القاعدہ کے مقتول لیڈر نے مسلمانوں کی جہاد سے چشم پوشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں حملوں کے مخالف تھے۔

وائٹ ہاؤس نے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکادمی میں قائم انسداد دہشت گردی مرکز کو اسامہ بن لادن کے خفیہ خطوط اور دوسری دستاویزات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔عربی زبان میں ان کاغذات میں ایک سو پچھہتر صفحات کو محیط خطوط یا ان کے مسودے شامل ہیں جو انھوں نے ستمبر دوہزار چھے سے اپریل دوہزار گیارہ تک لکھوائے تھے یا خود لکھے تھے۔

ان دستاویزات سے القاعدہ کے نیٹ ورک کے درمیان اندرونی خط وکتابت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔یہ خطوط خود اسامہ بن لادن یا یمن ،پاکستان اور صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں نے لکھے تھے۔ان کے علاوہ اسامہ کی اپنے ہاتھ سے لکھی ایک ڈائری بھی امریکی کمانڈوز کے ہاتھ لگی تھی جو وہ بھاگتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اب اس میں سے القاعدہ کے لیڈر کی نجی وتنظیمی زندگی اور دوسری تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کے حوالے سے انکشافات کیے جارہے ہیں۔

ان تحریروں میں اسامہ بن لادن نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مسلمان جہاد کے نظریے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے اپنے پیروکاروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسلامی دنیا میں حملوں سے گریز کریں اور اس کے بجائے صرف امریکا پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

بن لادن کی خط وکتابت کے ساتھ امریکی تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس کے مطابق وہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے اپنے نصب العین کے لیے عوامی حمایت کے حصو ل میں ناکامی ،ناکام میڈیا مہموں اور حملوں کی ناقص منصوبہ بندی پر اپ سیٹ تھےکیونکہ ان کے حملوں میں اسامہ کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ بے گناہ مسلمان مارے گئے تھے۔

اسامہ بن لادن کے مشیر آدم جدھن نے ان پر زوردیا تھا کہ وہ عراق میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی کارروائیوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔اس پر انھوں نے دوسری تنظیموں اور امریکیوں کے بہ قول دہشت گرد گروپوں پر زوردیا تھا کہ وہ عراقی القاعدہ کی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔

اس خط وکتابت میں القاعدہ کے اس وقت کے نائب کماندار ابو یحییٰ اللبی کے خطوط بھی شامل ہیں جن میں انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر بلا امتیاز حملوں سے گریز کرے۔

اسامہ بن لادن نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر ناصر الوحشی کو یمن میں اقتدار سنبھالنے پر خبردار کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اس کے بجائے امریکا پر حملوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

ان خطوط ودستاویزات کے مطابق القاعدہ کے لیڈر نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے الشباب جنگجوؤں کی جانب سے وفاداری کے اعلان پر کوئی زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی اور ان کے خیال میں الشباب کے جنگجو اپنے کنٹرول والے علاقوں میں کوئی اچھا نظم ونسق قائم نہیں کرسکے تھے اور انھوں نے اسلامی سزاؤں اور لوگوں کے ہاتھ کاٹنے میں سختی کا مظاہرہ کیا تھا۔

امریکیوں کےبہ قول ان خطوط سے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا بھی انکشاف ہوا ہے لیکن امریکا کو اس کی حقیقی مراد حاصل نہیں ہوسکی کیونکہ ملنے والے خطوط سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ ایرانی حکام اور القاعدہ کے درمیان ایران میں قید بعض جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی رہائی کے ضمن میں بات چیت ہوئی تھی لیکن القاعدہ اور ایران کے درمیان کوئی خوشگوار اور توانا تعلق قائم نہیں تھا۔

ان کاغذات سے براہ راست یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ پاکستانی حکومت میں القاعدہ کا کوئی خیرخواہ بھی موجود تھا۔اسامہ بن لادن نے اپنی بعض تحریروں میں ”قابل اعتماد پاکستانی بھائیوں” کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن انھوں نے پاکستان کے کسی سرکاری یا فوجی عہدے دار کی شناخت ظاہر نہیں کی جس سے یہ پتاچل سکے کہ کسی پاکستانی عہدے دار کو ایبٹ آباد میں ان کے ٹھکانے کا علم تھا۔

رپورٹ کے مطابق بن لادن نے سکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا تھا جن کہ وجہ سے ان کا خاندان کئی سال تک محفوظ رہا تھا۔انھوں نے ایبٹ آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت انتطامات کررکھے تھے اور بچوں کو کمپاؤنڈ سے باہر کسی بڑے آدمی کی نگرانی کے بغیر کھیل کود کے لیے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اسامہ بن لادن نے یکم مئی کوامریکی سیلز ٹیم کی کارروائی میں اپنی ہلاکت تک امریکا کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے لیے اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی تھی اور اس مقصد کے لیے وہ منصوبے تیار کرتے رہتے تھے لیکن وہ کسی امریکی لیڈر کو ہلاک کرنے یا امریکا پر کوئی بڑا حملہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی دنیا بھر میں کارروائیوں سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر باخبر نہیں تھے۔

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو ان کی ہلاکت کا ایک سال پورا ہونے پر منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔امریکا میں اس موقع پر باقاعدہ طور پر ایک ہفتے کا جشن منایا جارہا ہے جس کے دوران امریکی صدر براک اوباما اور دوسرے عہدے دار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس ”فتح عظیم” پر ڈونگرے برسا رہے ہیں اور اسامہ کی ہلاکت کے واقعہ سے متعلق نئے نئے گوشے منظرعام پر لارہے ہیں۔۔

امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا کہ ”امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔

واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

واشنگٹن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

Advertisements

Read Full Post »

PART 1/8

 

PART 2/8

 

PART 3/8

 

PART 4/8

 

PART 5/8

 

PART 6/8

 

PART 7/8

 

PART 8/8

Read Full Post »

Osama bin Laden died a natural death nearly 5 years before it was announced that he was eliminated by the American commandos. This sensational statement was made by a Turkish politician, and a former U.S. intelligence agent.  In an interview with Russia’s Channel One, he said that the Americans simply found and opened the tomb of the leader of al-Qaeda.

The journalists of Channel One first met this man in 2008. At the time he was featured in the documentary “Plan Caucasus,” talking about the attempts of the western intelligence services in the early 1990′s to separate the Northern Caucasus and, in particular, Chechnya from Russia. Chechen by nationality, Berkan Yashar is now a Turkish politician, but in those years he was one of the ideologists of Johar Dudayev. He asked for a meeting, promising to tell the truth about the death of Osama bin Laden whom he met in the early 90-ies in Chechnya.

“In September of 1992 I was in Chechnya, that’s when I first met the man whose name was Bin Laden. This meeting took place in a two-story house in the city of Grozny; on the top floor was a family of Gamsakhurdia, the Georgian president, who then was kicked out of his country. We met on the bottom floor; Osama lived in the same building, “said Berkan Yashar. Berkan said he did not know why bin Laden visited while in Grozny, and said only one thing about his meetings: “Just wanted to talk.”

However, according to Channel One, in those years the former employee of Radio Liberty Berkan Yashar already had an operational name Abubakar, given to him by the CIA. According to Berkan, after that trip Chechen nationals appeared in Osama bin Laden’s circle. Berkan Yashar emphasized that they did not participate “directly in the terror bombings.” “They protected bin Laden, it was his choice because he trusted them entirely, and knew that they would never betray,” said Yashar. According to Yashar he was not the only one who knew about it, but the Russian security services and the CIA were aware of this as well.

Answering the question whether he believed that the Americans killed Osama bin Laden in Pakistan, Berkan Yashar answered: “Even if the entire world believed I could not possibly believe it.” “I personally know the Chechens who protected him, they are Sami, Mahmood, and Ayub, and they were with him until the very end. I remember that day very well, there were three sixes in it: 26 June 2006. These people, as well as two others from London and two Americans, all seven of them, saw him dead. He was very ill, he was skin and bones, very thin, and they washed him and buried him,” said Berkan Yashar.

Yashar stressed that although the two American Muslims and two British Muslims the guards of bin Laden and saw him dead, they did not participate in the funerals. “Only three Chechens buried him, according to his will,” said Yashar. Bin Laden was buried, according to Yashar, in the mountains on the Pakistan-Afghan border. “There was no assault,” said Yashar. “I know the American operations from the inside: they find the grave, dig out bin Laden and tell everyone about this. They need to show how technologically the security services worked, how each step was controlled, and then present it as a great victory to show that taxpayers are not paying taxes for nothing. “

Berkan now blames himself for the fact that the Chechens from the protection of bin Laden, “the terrorist number one” are no longer alive after the U.S. intelligence services began to tap Berkan’s telephone conversations. He said he was the first one who announced the date of death of bin Laden. “I was the first one who announced the date of his death in November of 2008 at a conference in Washington, not naming any names, and it looks like it was when the Americans began to track my contacts,” he said.

The last security guard Berkan saw Sami, who, according to him, a few days before bin Laden was declared killed, was kidnapped by the U.S. intelligence agencies. According to Berkan, most likely, it was him who disclosed to them the exact place of burial in the mountains on the Pakistan-Afghan border.
In any case, the last call from Sami was from Pakistan. Berkan explained why he informed the journalists of Channel One: he feared for his life. According to him, only wide publicity around the world can protect him from the CIA. However, just in case, the Turkish secret services, according to him, provided him with guards and weapons.

Source : www.turkishnews.com

Read Full Post »

Osama bin Laden led a frugal life, spending all his personal wealth on attacks against the West and serving his guests good food, according Ayman al-Zawahiri, al-Qaeda’s leader.

Ayman al-Zawahri is al-Qaeda’s second in command and long considered the group’s operational head

In a new video posted online titled “Days with the imam, Part Two” a bespectacled Zawahiri, who took up the reins of al Qaeda after bin Laden’s killing just over a year ago, fondly recalled his predecessor’s meagre comforts.

“When you entered his house you would be surprised. It was a very simple house, with some wooden beds and plastic coverings and very little furniture,” said Zawahiri, wearing a white turban and speaking conversationally.

“If the Sheikh invited us to his house, he would give us what he had in the way of bread, vegetables, rice – whatever was available he would give us.”

Bin Laden was killed in Pakistan last May in a night-time raid by U.S. special forces, ending a 10-year manhunt that spanned the globe.

“He spent all his money on jihad,” said Zawahiri, adding bin Laden had given $50,000 to help finance bombings of U.S. embassies in Kenya and Tanzania that killed more than 200 people in 1998. At the time, he had no more than $55,000 to his name.

Zawahiri chuckled occasionally as he recounted his memories of bin Laden, whom he said had urged his fellow mujahideen, or “holy warriors”, to shun electricity in preparation for the hardships of life as on the run.

Despite his austere way of life, bin Laden was a generous host and once bought a whole herd of sheep to feed his frequent visitors in Afghanistan, said Zawahiri.

“He was known for his generosity with guests. He would slaughter livestock for them and give them tasty food.”

Zawahiri was bin Laden’s lieutenant and the brains behind much of al Qaeda’s strategy for many years.

“When you entered his house you would be surprised. It was a very simple house, with some wooden beds and plastic coverings and very little furniture,” said Zawahiri

Read Full Post »

%d bloggers like this: