Feeds:
Posts
Comments

Posts Tagged ‘United States’

Image

سحری کے بعد دیکھا کہ ایک ٹی وی چینل سے ملالہ یوسفزئی کی سالگرہ کی خبر نشر کی جارہی تھی۔جس میں بتایا جارہا تھا کہ ملالہ آج سولہ سال کی ہوگئی ہیں۔ دوسرا چینل تبدیل کیا تو وہ بھی یہ نیوز نشر کررہاتھا حتٰی کہ تمام چینل کی زینت یہی خبر بنی ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ بتایا جارہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گی۔ میں خود بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں اور دوستوں کے ان سوالات سے پریشان بھی ہوں جو مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ملالہ کو خود ساختہ ڈرامے کے آغاز سے لیکر اب تک الیکٹرانک میڈیا نے اتنا ہیرو کیوں بنایا ؟

 اگر وہ تعلیم کی اتنی خیر خواہ تھی تو پھر پاکستان چھوڑ کربرطانیہ کیوں گئی جبکہ ملک کے خیر خواہ تو ملک کے لیے جان دے سکتے ہیں مگر ملک سے بھاگ نہیں سکتے ؟ کیا پاکستان میں تعلیم نہیں ہے؟ پاکستان میں ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر حادثات میں بہت سے والدین کے لخت جگر حصول تعلیم کےلیے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر ان کو میڈیا کیوں نہیں ہیرو بناکر پیش کرتا ؟کیا بھٹو، ضیاء اور بے نظیر سے زیادہ ملالہ کو خطرہ ہے؟ کیا یہ لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے؟

بدقسمتی یہ ہے کہ جو اس ملک کی اصل ہیرو ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا گھبراتا ہے۔ صرف پرنٹ میڈیا ہے جو کالمسٹ کے کالم کو اپنے اخبارات میں جگہ دے کر اس کی رہائی کے لیے آواز بلند کرتا ہے ۔ اور اس ہیرو سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے اگر انجان ہے تو ہمارے حکمران اور الیکٹرانک میڈیا والے، پرنٹ اور سوشل میڈیا مسلسل ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی آواز اٹھا رہا ہے۔ شروع شروع میں توچند سماجی و سیاسی تنظیموں اور بہت سی این جی اوز نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے صدا بلند کی مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی صدا ایسے بیٹھتی گئی جیسے دھول بیٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح یہ کوششیں بھی بیٹھ گئیں۔آج اگر کسی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں تو ان میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی (ڈاکٹر عافیہ کی بہن ) مجتبیٰ رفیق (چئیر مین وائس آف یوتھ)اسلم خٹک (جنرل سیکرٹری پی ایم ایل ا ین ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی)اور بہت سے کالمسٹ بھی شامل ہیں۔

 ہر محب وطن پاکستانی کی طرح میں یہاں یہ واضح کردوں کہ ملک میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کرنے والے لوگوں کی میں پرزور مذمت کرتا ہوں اور ایسی حرکت کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں جو ناحق لوگوں کا قتل عام کررہےہیں۔مگران لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اسلام کی سر بلندی کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ملالہ اورڈاکٹرعافیہ دونوں پاکستان کی بیٹی ہیں۔دونوں کا مشن بھی ایک ہے۔ ملالہ تعلیم کے حصول کی اگر بات کررہی تھی اس گناہ پر اگر کسی نے اْس پر گولی چلائی تو وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ وہ سزا کا مستحق بھی ہے۔ مگر جب ہم کہتے ہیں کہ ملالہ نے پا کستان کا سر فخر سے بلند کردیا ہے تو ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ درحقیقت ڈاکٹر عافیہ عالم اسلام اور پاکستان کے سرکا تاج ہے۔

 کیونکہ ڈاکٹر عافیہ نے اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا ہوا ہے جبکہ ملالہ کا آئیڈیل لاکھوں مسلمانوں کا قاتل اوبامہ ہے جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ڈاکٹر عافیہ ایک مظلوم اعلٰی تعلیم یافتہ اورمسلمانوں کی ہیروہے جبکہ ملالہ غیرمسلم اور میڈیا کی ہیرو ہے۔ڈاکٹرعافیہ صدیقی نے 86سال کی سزاغیرمنصفانہ،اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ہاتھوں پائی۔ملالہ نے جہاد کی مخالفت کے نام پردنیامیں نام پایاجبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی مسلمان سائنٹسٹ ہونے پردہشتگرد کہلائی۔ملالہ نے مسلمان ہونے کے باوجود حجاب اور داڑھی کی مخالفت کی،ملالہ کوتو برقعہ دیکھ کر پتھر کا زمانہ یاد آتا ہے اوراسی اسلام دشمن نظریات کی بنا پر وہ امن کی فاختہ کہلائی۔

اس وقت دونوں امریکا میں موجود ہیں۔ ایک امریکیوں کی قید میں اور دوسری اقوام متحدہ کے فورم پر۔مغربی دنیا ملالہ کوایک مشن کے طورپر استعمال کررہی ہے کیونکہ وہ اسلامی شعائر کی مخالف ہے۔اگر ملالہ یہویوں اور نصرانیوں کی منظور نظر ہوکر بھی پاکستان کی بیٹی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔مگرڈاکٹر عافیہ صدیقی اسلام کامکمل نمونہ ہوکر پاکستان کی بیٹی کیوں نہیں ہے؟پاکستان کے غیرت مندمسلمان خود فیصلہ کریں کہ پاکستان کی حقیقی اور عظیم بیٹی کون ڈاکٹر عافیہ یا ملالہ یوسف زئی؟حکومت وقت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو کب امریکیوں کی چنگل سے آزاد کراتی ہے؟

ملالہ اگر تعلیم اور عورتوں کے حقوق کی اتنی خیر خواہ ہوتی تو آج جب اس پوری دنیا کےسامنے بولنے کا موقع ملا تو وہ اس فورم پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے آواز بلند کرتی اور دو ٹوک الفاظ میں کہتی کہ ’’میری بہن ڈاکٹر عافیہ جو اس وقت امریکا کی قید میں ہے اس کو فوراً رہا کیاجائے۔ اس کو کیوں ناحق سزادی جارہی ہے ‘‘ مگر افسوس اس کا مشن یہ نہیں ہے اس کا مشن تو کچھ اور ہے۔ کل کے ایک اخبار میں خبر دیکھی جس میں طالبان نےملالہ کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان آکر اپنی تعلیم مکمل حاصل کرے،کیا ملالہ اس دعوت کے لیے تیار ہوگی ؟ ناممکن۔

اس کالم کے ذریعے اپنی اور تمام پاکستانیوں کی آواز میاں نواز شریف تک پہنچاتے ہوئے ان کوا یک بار پھر یاد کراتا چلوں کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر انہیں اقتدار ملا تو وہ عافیہ کو ضرور رہا کرائیں گے۔ میاں صاحب اس معاملے میں بھی ایٹمی دھماکوں کی طرح بولڈ فیصلہ لیں۔کمیٹیاں بنانے سے کیا فائدہ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ’’کمیٹی بناؤ اور مٹی پاؤ‘‘جس طرح آپ نےایٹمی دھماکے کرکے پاکستانی عوام کو خوش کیا اسی طرح اب فی الفور فیصلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایسے پاکستان لاؤ جیسے ریمنڈڈیوس کو سابقہ حکومت نے پاکستان سے بھیجاتھا تاکہ پاکستانیوں کا ریمنڈڈیوس والا غم غلط ہو ۔
الیکٹرک میڈیا نے جتنا ملالہ یوسفزئی کو ہیرو بنا کرپیش کیا ہے اس سے زیادہ ہیرو تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی مہم چلانے والا مجتبیٰ رفیق جس نے (ایٹمی دھماکے کے دن کا نام یوم تکبیر تجویزکیاتھا)ہے کیونکہ ملالہ تو اس حادثے کے بعد پاکستان چھوڑ کربرطانیہ شفٹ ہوگئی مگر یہ مجتبٰی رفیق وہ شخص ہے جو انگلینڈمیں اپناسب کچھ چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہواتاکہ اپنے ملک کی خدمت کرسکے۔مجبتٰی رفیق اس وقت غربت وافلاس کے دن گزاررہا ہے اور ملالہ ڈالروں میں کھیل رہی ہے۔ ہیرووہ ہوتے ہیں جو ملک کے لیے کچھ کریں وہ نہیں جواپنی جان کے ڈر سے ملک سے ہی فرار ہوجائیں۔ عزت و ذلت اور زندگی و موت تو اللہ کے اختیار میں ہے جب موت آنی ہے تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا ۔

 میاں صاحب ان باتوں کو آپ سے زیادہ بہتر کون جانتا اور سمجھتا ہے ۔بس ایک فیصلہ لینے کی دیر ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی مریم نواز جیسی بیٹی کو باعزت پاکستان لا کرامر ہوتے ہیں یا پھر سابق حکومت کی طرح عوامی بددعائیں اپنا مقدر ٹھہراتے ہیں۔

Advertisements

Read Full Post »

931211_477996842277755_2090479930_n

امریکا نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے گذشتہ سال کی گئی کارروائی کے دوران برآمد شدہ دستاویزات میں سے سترہ کو جمعرات کو جاری کیا ہے۔ان میں القاعدہ کے مقتول لیڈر نے مسلمانوں کی جہاد سے چشم پوشی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں حملوں کے مخالف تھے۔

وائٹ ہاؤس نے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکادمی میں قائم انسداد دہشت گردی مرکز کو اسامہ بن لادن کے خفیہ خطوط اور دوسری دستاویزات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔عربی زبان میں ان کاغذات میں ایک سو پچھہتر صفحات کو محیط خطوط یا ان کے مسودے شامل ہیں جو انھوں نے ستمبر دوہزار چھے سے اپریل دوہزار گیارہ تک لکھوائے تھے یا خود لکھے تھے۔

ان دستاویزات سے القاعدہ کے نیٹ ورک کے درمیان اندرونی خط وکتابت کا بھی انکشاف ہوا ہے۔یہ خطوط خود اسامہ بن لادن یا یمن ،پاکستان اور صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں نے لکھے تھے۔ان کے علاوہ اسامہ کی اپنے ہاتھ سے لکھی ایک ڈائری بھی امریکی کمانڈوز کے ہاتھ لگی تھی جو وہ بھاگتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور اب اس میں سے القاعدہ کے لیڈر کی نجی وتنظیمی زندگی اور دوسری تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط کے حوالے سے انکشافات کیے جارہے ہیں۔

ان تحریروں میں اسامہ بن لادن نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مسلمان جہاد کے نظریے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے اپنے پیروکاروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اسلامی دنیا میں حملوں سے گریز کریں اور اس کے بجائے صرف امریکا پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

بن لادن کی خط وکتابت کے ساتھ امریکی تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس کے مطابق وہ دہشت گرد گروپوں کی جانب سے اپنے نصب العین کے لیے عوامی حمایت کے حصو ل میں ناکامی ،ناکام میڈیا مہموں اور حملوں کی ناقص منصوبہ بندی پر اپ سیٹ تھےکیونکہ ان کے حملوں میں اسامہ کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ بے گناہ مسلمان مارے گئے تھے۔

اسامہ بن لادن کے مشیر آدم جدھن نے ان پر زوردیا تھا کہ وہ عراق میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی کارروائیوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔اس پر انھوں نے دوسری تنظیموں اور امریکیوں کے بہ قول دہشت گرد گروپوں پر زوردیا تھا کہ وہ عراقی القاعدہ کی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔

اس خط وکتابت میں القاعدہ کے اس وقت کے نائب کماندار ابو یحییٰ اللبی کے خطوط بھی شامل ہیں جن میں انھوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر بلا امتیاز حملوں سے گریز کرے۔

اسامہ بن لادن نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر ناصر الوحشی کو یمن میں اقتدار سنبھالنے پر خبردار کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ اس کے بجائے امریکا پر حملوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

ان خطوط ودستاویزات کے مطابق القاعدہ کے لیڈر نے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے الشباب جنگجوؤں کی جانب سے وفاداری کے اعلان پر کوئی زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی اور ان کے خیال میں الشباب کے جنگجو اپنے کنٹرول والے علاقوں میں کوئی اچھا نظم ونسق قائم نہیں کرسکے تھے اور انھوں نے اسلامی سزاؤں اور لوگوں کے ہاتھ کاٹنے میں سختی کا مظاہرہ کیا تھا۔

امریکیوں کےبہ قول ان خطوط سے القاعدہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا بھی انکشاف ہوا ہے لیکن امریکا کو اس کی حقیقی مراد حاصل نہیں ہوسکی کیونکہ ملنے والے خطوط سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ ایرانی حکام اور القاعدہ کے درمیان ایران میں قید بعض جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی رہائی کے ضمن میں بات چیت ہوئی تھی لیکن القاعدہ اور ایران کے درمیان کوئی خوشگوار اور توانا تعلق قائم نہیں تھا۔

ان کاغذات سے براہ راست یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ پاکستانی حکومت میں القاعدہ کا کوئی خیرخواہ بھی موجود تھا۔اسامہ بن لادن نے اپنی بعض تحریروں میں ”قابل اعتماد پاکستانی بھائیوں” کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن انھوں نے پاکستان کے کسی سرکاری یا فوجی عہدے دار کی شناخت ظاہر نہیں کی جس سے یہ پتاچل سکے کہ کسی پاکستانی عہدے دار کو ایبٹ آباد میں ان کے ٹھکانے کا علم تھا۔

رپورٹ کے مطابق بن لادن نے سکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا تھا جن کہ وجہ سے ان کا خاندان کئی سال تک محفوظ رہا تھا۔انھوں نے ایبٹ آباد میں واقع اپنی رہائش گاہ پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت انتطامات کررکھے تھے اور بچوں کو کمپاؤنڈ سے باہر کسی بڑے آدمی کی نگرانی کے بغیر کھیل کود کے لیے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اسامہ بن لادن نے یکم مئی کوامریکی سیلز ٹیم کی کارروائی میں اپنی ہلاکت تک امریکا کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانے لیے اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی تھی اور اس مقصد کے لیے وہ منصوبے تیار کرتے رہتے تھے لیکن وہ کسی امریکی لیڈر کو ہلاک کرنے یا امریکا پر کوئی بڑا حملہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کی دنیا بھر میں کارروائیوں سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر باخبر نہیں تھے۔

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو ان کی ہلاکت کا ایک سال پورا ہونے پر منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔امریکا میں اس موقع پر باقاعدہ طور پر ایک ہفتے کا جشن منایا جارہا ہے جس کے دوران امریکی صدر براک اوباما اور دوسرے عہدے دار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس ”فتح عظیم” پر ڈونگرے برسا رہے ہیں اور اسامہ کی ہلاکت کے واقعہ سے متعلق نئے نئے گوشے منظرعام پر لارہے ہیں۔۔

امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے لکھا کہ ”امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔

واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

واشنگٹن۔العربیہ ڈاٹ نیٹ

Read Full Post »

 

Pakistanis are blamed for harboring unwanted hostility towards Americans and their country’s is accused of supporting alleged terrorists who want to destroy the United States of Pakistan.

No columnist or intellect needs to appraise the nation of destructive mindset of some Americans who even advocates use nuclear weapons against Pakistan.

Now the Hollywood has made a Drama series titled “The Last Resort” which ended up with producing the idea of bombing Pakistan with nuclear weapons to save the US.

A trailer of the drama series shows Pakistan destroys a US submarine which eventually prompts Americans to use nuclear weapons against Islamabad.

Pakistan’s TV and film industry even religious fanatics have never advocated use of nuclear weapons against Washington.

Read Full Post »

Money changers count piles of Afghani at a money exchange market in Kabul June 16, 2012.

WASHINGTON: The United States named two Afghanistan-Pakistan money changers as helping the Taliban manage and move funds, setting sanctions against both that aim to hinder their business.

The US Treasury said the two hawalas, or money exchange businesses – the Haji Khairullah Haji Sattar Money Exchange (HKHS) and the Roshan Money Exchange – “have been used by the Taliban to facilitate money transfers in support of the Taliban’s narcotics trade and terrorist operations.” Up through last year, HKHS services were “a preferred method for Taliban leadership to transfer money to Taliban commanders in Afghanistan,” the Treasury said.

Roshan was used for money transfers by the Taliban, particularly in Helmand province, including allegedly moving hundreds of thousands of dollars last year “for the purchase of narcotics on behalf of Taliban officials.” The Treasury listed Haji Abdul Sattar Barakzai and Haji Khairullah Barakzai, HKHS co-owners, under the sanctions for donating funds to the Taliban.

HKHS has 16 branches in Pakistan, Afghanistan, Iran and Dubai, according to the Treasury.

Roshan operates 11 branches in Pakistan and Afghanistan.

Read Full Post »

US Ambassador Cameron Munter and Rehman Malik during the meeting.

ISLAMABAD: Pakistan on Sunday assured full protection to US diplomats in Islamabad after a US State Department report said there was a marked increase in US diplomats being harassed by the country’s security agencies.

“Islamabad assures full protection to all diplomats guaranteed under the Vienna Conventions,” a senior official quoted Rehman Malik as saying during the meeting between the Prime Minister’s Adviser on Interior Affairs and the US Ambassador to Pakistan Cameron Munter. The US ambassador conveyed his concerns to Malik.

“Complete security protocol will be extended to American diplomats in Pakistan,” Malik said, adding that Islamabad police would provide proper security and extend cordial atmosphere to all diplomats including US diplomats under international laws.

Law enforcement authorities extended certain privileges and immunities to foreign diplomatic missions and consular posts in Pakistan, Malik is quoted as having said. “The main purpose of such privileges is to ensure the efficient and effective performance of their official missions on behalf of their governments.”

“Matters related to bilateral relations came under discussion,” stated a brief press statement issued by the interior ministry on Sunday.

During the meeting, Munter also presented formal recommendations to improve the security and working conditions of his embassy staff in Islamabad. He also discussed policy matters such as the use of armoured vehicles by diplomats.

On Friday, Foreign Office spokesperson Moazam Ali Khan clarified that all foreign diplomats are extended full courtesies and privileges in accordance with the Vienna Conventions on diplomatic/consular privileges and immunities. “The same courtesies and privileges are also extended to duly accredited US diplomats/consular representatives in Pakistan.”

Read Full Post »

Washington: Pakistani neuroscientist Dr Aafia Siddiqui, who is serving her prison sentence in US, is alive, an official said, denying the rumours of her death.

SMSs have been circulating in Pakistan that Dr Siddiqui had passed away, but Maria Douglas, a spokesperson for Federal Medical Center Carswell in Fort Worth, Texas, told The Express Tribune that Dr Siddiqui is alive.

The neuroscientist was sentenced to 86 years in prison in 2010 by a New York court. The US accused her of being an al Qaeda worker and of trying to fire on a US soldier during her interrogation.

An MIT graduate, Dr Siddiqui, went missing for five years before she was discovered in Afghanistan.

The sentiment prevails in Pakistan that Dr Siddiqui is innocent, and her family also denied the US ‘allegations’.

A statement issued by the Embassy of Pakistan said that they and the Pakistani Consulate General in Texas are in regular contact with the FMC Carswell authorities regarding Dr Aafia Siddiqui.

the prison authorities confirmed today that Dr Siddiqui was quite well. She is also in regular telephone contact with her family and, according to the authorities, last telephoned her family on 19 June 2012,” a statement issued by the Embassy of Pakistan said.

“An officer from the Pakistan Consulate General in Houston visits Dr Siddiqui at the FMC prison regularly. The last such visit took place in April 2012. Dr. Aafia Siddiqui’s brother has also visited her in prison,” it added.

Read Full Post »

Washington: The Associated Press has learned that a U.S. military investigation is recommending that as many as seven U.S. troops face administrative punishments, but not criminal charges, in the burning of Qurans at a U.S. base in Afghanistan in February.

According to reports, speaking on the condition of anonymity, the U.S. military officials said that the classified report and recommendations for disciplinary action against the service members involved were delivered to the Pentagon more than a week ago. No final decisions have been made.

Several Qurans were thrown into a garbage fire pit, setting off riots among Afghans.

U.S. officials said that one Navy service member and as many as six Army soldiers face punishment that can range from a letter in their file to docking their pay.

It is to be mentioned that earlier President Obama also apologized the Afghan people for incident and assured that such incidents would not happen in the future. The President also assured that the culprits would be brought to justice.

Read Full Post »

Older Posts »

%d bloggers like this: